درد سر

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - سر کا درد، (مجازاً) رنج و محن، زحمت، تکلیف۔  زندگی ہے یہ درد سر آخر موت سے ہے کہاں مفر آخر      ( ١٩٥٠ء، دھم پد (ترجمہ) ١١٤ ) ٢ - الجھن، مصیبت، روگ، عذاب۔ "وہ ایک مسئلہ اور درد سر بنی ہوئی تھی۔"      ( ١٩٨٦ء، جنگ، کراچی، ٢٩، اگست : ٨ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'درد' کے بعد کسرۂ اضافت لگا کر فارسی ہی سے ماخوذ اسم 'سر' لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور تحریراً ١٦٣٥ء سے 'سب رس" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

٢ - الجھن، مصیبت، روگ، عذاب۔ "وہ ایک مسئلہ اور درد سر بنی ہوئی تھی۔"      ( ١٩٨٦ء، جنگ، کراچی، ٢٩، اگست : ٨ )

جنس: مذکر